تذکرہِ اہل بیتؑ

تین تاریک راتیں از نور درویش

برصغیر پاک و ہند کی روایات میں، بالخصوص اُردو بولنے والوں کے ہاں رمضان کی ۱۹، ۲۰ اور ۲۱ کی تاریخ کیلئے “شب” کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ میں بچپن سے اپنے بزرگوں سے یہ لفظ سنتا آیا لیکن کبھی پوچھنے کی ضرورت پیش نہیں آئی کہ ان تین تاریخوں کو “شب” کیوں کہا جاتا ہے۔ بس ۱۸ رمضان کی دوپہر سے اُنہیں یہی کہتا سنا کہ آج سے شبیں شروع ہورہی ہیں۔
ان تاریخوں میں غم کی شدت، یتیمی کے جیسے احساس اور تاریکی کی سی کیفیت نے مجھے خود سمجھا دیا کہ میرے بزرگ اِن تین تاریخوں کو شب کیوں کہتے ہیں۔ گویا ان تاریخوں کے دن بھی ہمارے لیے شب اور رات بھی۔
۔
یہ تین شبیں اپنے اندر ایامِ عزا یعنی محرم سے آٹھ ربیع الاول یا ۸ صفر تک کے غم کا عکس سموئے ہوئے ہوتی ہیں۔ امام بارگاہوں میں جلوسوں میں سیاہ لباس پہنے، چہروں پر کرب اور دکھ کے آثار لیے موجود عزادروں کا دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ جیسے سب کو یتیمی کا غم ستا رہا ہے۔ یہ ابو الایتام یعنی یتیموں کے باپ سے بچھڑنے کا غم ہے، یہ اُس ہستی کے رخصت ہونے کے دن ہیں جس نے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے بھی تاکید کی کہ میرے بعد یتیموں کا خیال رکھنا۔

رجب اور رمضان کے درمیان فرق ہی کتنا ہے؟ وہی لوگ جنہیں ۱۳ رجب کو امام بارگاہ میں میں نے لفظ علیؑ سُن کر خوشی سے جھومتے دیکھا تھا، اُنہی کی آنکھیں ان تین شبوں میں فقط لفظِ علیؑ سُن کر آنسووں سے تر ہوتی رہیں گی۔ بہت بے بسی کا احساس ہوتا ہے۔ آسان نہیں ہوتا اُن حیدرِ کرارؑ کے مصائب سننا جن کے فضائل و مناقب سنتا ہوا ایک محب اہل بیتؑ  بڑا ہوتا ہے، جن کا نام لیکر وہ ہر مشکل سے ٹکرا جانے کا حوصلہ حاصل کرتا ہے۔ مصائب بھی وہ جو فقط ۱۹ رمضان سے شروع نہ ہوئے بلکہ مصائب تو وہاں سے شروع ہوئے تھے جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ مولا علیؑ کسی کو سلام کریں اور وہ جواب نہ دے، کیا یہی مصائب کچھ کم ہیں؟ حقیقت تو یہی ہے کہ میرے آقا و مولاؑ، نہ آپ کے فضائل کی کوئی حد ہے اور نہ ہی مصائب کی۔ مولا علیؑ کے حلق میں معلوم نہیں کب کب کانٹا سا چبھتا ہوگا۔
۔
یہ وہ تین تاریک راتیں ہیں جن میں لفظ شیعانِ حیدرِ کرارؑ دل ہی دل میں دہرانے سے پہلے لمحے میں دل فخر محسوس کرتا ہے کہ ہاں میں علیؑ کا شیعہ ہوں اور دوسرے لمحے ٹوٹ کر رہ جاتا ہے کہ آج اِس علیؑ کے شیعہ کے آقا و مولا علیؑ دنیا سے رخصت ہوگئے۔

نجف الاشرف میں کیا بچے، کیا جوان اور کیا بوڑھے، سب کے لبوں سے تھدمت واللہ ارکان الھدی کی صدائیں یوں بلند ہوتی ہیں جیسے کُل کائنات سجدے میں شہید ہونے والے اپنے مولاؑ کو یاد کرکے اپنے کرب کا اظہار کر رہی ہو اور قاتل پر لعن کر رہی ہو۔
۔
یہ تین شبیں بہت تاریک شبیں ہیں۔ ان میں ہدایت کے ستون منہدم کردئے گئے۔ جس کے چہرے کو دیکھنا عبادت قرار دیا گیا، اُسے دورانِ عبادت شہید کردیا گیا۔ یہ وہ راتیں ہیں جب مولا علیؑ نے اپنے سب بچوں کا ہاتھ امام حسنؑ کے ہاتھ میں دیا تھا اور امام حسینؑ کا ہاتھ مولا عباسؑ کے ہاتھ میں دیا تھا۔ یہ وہ راتیں ہیں جب مولا علیؑ کا ہر شیعہ، اپنے مولاؑ کو یاد کرکے اُن یتیم بچوں کی طرح روئے گا جن کی نسبت سے مولا علیؑ کو ابو الایتام یعنی یتیموں کا باپ کہا جاتا ہے۔ وہی بچے جو ضربت کی خبر ملنے کے بعد اپنے بابا علی مرتضی علیہ السلام کے گھر کے باہر، چھوٹی چھوٹی کٹوریوں میں بکری کا دودھ لیکر جمع ہوگئے تھے، انہیں یہ پتہ چلا تھا کہ طبیب نے اُن کے باباؑ کو علاج کی غرض سے بکری کا دودھ پلانے کی تاکید کی ہے۔ ممکن ہے کہ آج ان تاریک شبوں میں کوفہ کے ان یتیم بچوں کا یاد کرکے روتے ہوئے کسی کے دل میں خیال آجائے کہ کاش میں بھی کوفہ و نجف کا کوئی یتیم ہوتا۔
۔
امام جعفر صادقؑ کا مشہور واقعہ ہے جب ایک محب اہل بیتؑ  نے آپ کی خدمت میں آکر اپنی مالی تنگدستی اور پریشانیوں کا ذکر کیا تھا تو امامؑ نے ُاس شخص سے فرمایا تھا کہ میری معلومات کے مطابق تو تم کافی مالدار ہو۔ اُس شخص   کے حیران ہونے پر امامؑ نے اُس سے دریافت کیا تھا کہ کیا تم ہم اہل بیتؑ  سے محبت رکھتے ہو؟ اُس شخص نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا تھا  کہ مولاؑ بہت محبت کرتا ہوں۔ اِس پر صادقِ آلِ محمدؑ نے سوال پوچھا تھا کہ بتاو کتنی قیمت لوگے اِس محبت کی؟ یہ سن کر وہ شخص تڑپ اُٹھا تھا اور  اُس نے روتے ہوئے جواب دیا تھا کہ آقاؑ،  تمام دنیا کی دولت بھی مل جائے تب بھی  یہ محبت کبھی نہ بیچوں گا۔ بس یہ سن کر امامؑ نے فرمایا تھا کہ اب بھی کہتے ہو کہ تم غریب ہو؟

ان تین شبوں کے ہر لمحے میں آپ کو اس دولت کی قدر معلوم ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے