عزاداری

واقعہِ کربلا کی ٹائم لائن از نور درویش

ٹائم لائن ایک جدید اصطلاح ہے جو مختلف معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کا ایک استعمال یہ بھی ہے کہ کسی اہم واقعے کے آغاز سے لیکر اختتام تک پیش آنے والے تمام واقعات کو ایک ٹائم لائن پر ترتیب وار لکھ کر بتایا جائے کہ اس اہم ترین واقعے میں کب کیا ہوا اور کس کردار نے کیا عمل انجام دیا۔
واقعہ کربلا کی بھی ایک ٹائم لائن ہے۔ ایک ظاہری اور ایک باطنی۔ ظاہری ٹائم لائن کا آغاز کرنا ہو تو آپ ۲۸ رجب سنہ ساٹھ ہجری سے یا اُس سے بھی پہلے سے کر سکتے ہیں جب امام حسین علیہ السلام کے خلاف مدینہ میں سازشیں شروع ہوئیں، نواسہ رسول ص سے بیعت کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے بعد مدینہ سے لیکر کربلا آمد تک ہر منزل اس ٹائم لائن کا ایک حصہ ہوگی جس میں ہر منزل پر یہ تفصیل لکھی ہوگی کہ واقعہ کربلا کی ٹائم لائن میں اس مخصوص منزل پر کیا ہوا تھا اور امام حسین علیہ السلام نے یہاں کیا فرمایا تھا یا کیا عمل انجام دیا تھا۔ یہ ٹائم لائن شبِ عاشور، شامِ غریباں سے ہوتی ہوئی کوفہ، شام اور پھر واپس مدینہ تک آکر تک سکتی ہے۔ یہ ظاہری ٹائم لائن ہے۔
بات اگر اس ٹائم لائن کی ہو جو کربلا کی باطنی منزلوں کو واضح کرتی ہے تو اس ٹائم لائن کا آغاز تو خدا جانے کب سے ہوگا لیکن جہاں تک مجھ کم علم کی ناقص عقل سمجھ پائی ہے تو اس ٹائم لائن پر ہر نبی ع کے امام حسین علیہ السلام
پر گریہ کرنے سے لیکر بنصِ حدیثِ امام رضا علیہ السلام، جناب ابراہیم علیہ السلام اور اللہ کے درمیان ہوئے ذبحِ عظیم سے متعلق مکالمے سمیت وہ سب کچھ شامل ہوگا کہ جو کربلا کے آسمانی و ملکوتی پہلو کو واضح کرتا ہوگا۔ اس میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جنابِ اُم سلمیٰ سلام اللہ علیھا کو ایک شیشی میں خاکِ کربلا دینا بھی شامل ہوگا اور بچپن میں امام حسین علیہ السلام کی گردن کے بوسے لیکر گریہ کرنا بھی۔
۔
کربلا کی ظاہری ٹائم لائن ہو یا باطنی ٹائم لائن، اس کا نقطہ آغاز تو ہمیں معلوم ہوگیا لیکن اس کا نقطہ اختتام کیا ہوگا؟ بظاہر اکسٹھ ہجری میں واقعہ کربلا رونما ہوکر اختتام کو پہنچ گیا لیکن یہ کربلا کا نقطہِ اختتام نہیں تھا بلکہ کربلا کی ٹائم لائن کو، امام حسین علیہ السلام، سیدہ سلام اللہ علیھا، سیدہ زینب سلام اللہ علیھا اور ائمہ اہل بیت علیھم السلام کے فرامین کی روشنی میں آگے بڑھنا تھا۔

یہ ٹائم لائن اکسٹھ ہجری کے بعد سے اب تک جاری ہے اور آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کی ہر منزل میں کہیں امام زین العابدین علیہ السلام کے وہ آنسو نظر آئیں گے جو وہ پینتیس برس بہاتے رہے، سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کے آنسو نظر آئینگے جو بی بی ع نے شام میں ایک گھر میں صفِ عزا بچھا کر بہائے، مادرِ گرامی ابو الفضل العباس علیہ السلام کے آنسو نظر آئینگے جو وہ ہروز بقیع میں ریت سے چند قبروں کی شبہیں بنا کر بہاتی تھیں، اسیرانِ کربلا کے وہ آنسو نظر آئینگے جو وہ مدینہ واپس آکر بہاتے رہے۔

پھر زمانہ آگے بڑھا تو کہیں امام باقر علیہ السلام اپنے فرزند جعفرِ صادق علیہ السلام کو اپنے جد حسین علیہ السلام کی مجلس کروانے کی وصیت کرتے نظر آئینگے، کہیں امام جعفر صادق علیہ السلام بتلاتے نظر آئینگے کہ غمِ حسین علیہ السلام میں بہنے والے آنسو کی اہمیت کیا ہے۔ پھر کسی منزل پر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ابو بصیر سے کہتے نظر آئینگے کہ اے ابو بصیر تو علی اکبر ع کے مصائب سن کر روتا کیوں نہیں؟ پھر کوئی منزل آئے گی نیشاپور کی جہاں امام رضا علیہ السلام خراسان جاتے ہوئے دس روز قیام فرمائیں گے اور اپنے جد حسین علیہ السلام کی مجلس کا اہتمام کریں گے۔ پھر ایک منزل ہوگی جب امام رضا علیہ السلام دعبل خزاعی سے روزِ عاشور مرثیہ سنیں گے اور پردے کی دوسری طرف تشریف فرما سیدہ معصومہ قم سلام اللہ علیھا شدتِ غم سے عالمِ غشی میں چلی گئی ہونگی۔
غرض ہر امام کے دور میں یادِ کربلا سے متعلق رونما ہونے والے واقعات اس ٹائم لائن پر ریکارڈ ہونگے۔ پھر ایک طویل زمانہ غیبتِ کبری کا اندھیرا زمانہ بھی ہے۔ اس طویل زمانے میں اس ٹائم لائن پر کون کون سی منزلیں ہونگی ؟ اس زمانے میں وہ تمام منزلیں ریکارڈ ہونگیں جو عزاداری امام حسین علیہ السلام کو روکے جانے کی کوششوں اور ہر مشکل کے باوجود اسے جاری و ساری رکھنے کے عزم کو واضح کریں گی۔ اس طویل ترین اندھیرے زمانے میں ہر سال ایک منزل اُس نوحے کو بھی نقل کرے گی جو ہمارے امام زمانہ صلوات اللہ علیہ کی لسانِ مطھر سے اپنے جد حسین علیہ السلام اور اپنے پیاروں کی یاد میں کہا گیا۔ یعنی زیارتِ ناحیہ۔
۔
کربلا کی اس طویل ٹائم لائن کی ہر منزل امام حسین علیہ السلام کی نگرانی اور حکم کے مطابق ریکارڈ ہوتی آئی ہے۔ امام ع نے کس کے ذمہ کی کیا ڈیوٹی لگائی، وہ سب بھی اس میں ریکارڈ ہے۔

جو بات کہنے کیلئے میں نے یہ سب تفصیل لکھی وہ یہ ہے کہ کربلا کی اس طویل ٹائم لائن میں مولا حسین علیہ السلام نے اپنے چاہنے والوں کی کیا ڈیوٹی لگائی؟ وہ ڈیوٹی ہے “جب ٹھنڈا پانی پیو تو مجھے یاد کرو اور جب کسی غریب الوطن کا ذکر سنو تو مجھ پر گریہ کرو۔” یہی ڈیوٹی ہماری سیدہ سلام اللہ علیھا نے لگائی جب یہ سوال پوچھا کہ جب میرا حسین ؑ پیاسا مارا جائے گا تو اسے روئے گا کون؟
۔
کربلا کی ملکوتی ٹائم لائن کوئی عام ٹائم لائن نہیں بلکہ کائنات کی عظیم ترین ٹائم لائن ہے، جس میں انبیاء علیھم السلام، ائمہ و اہل بیت علیھم السلام، اولیاء اور بزرگ علماء شامل ہیں۔ اس میں دعبل خزاعی، فرزدق۔ انیس و دبیر جیسے مرثیہ کہنے والے شاعر بھی ہیں۔ ایک شیعہ کیلئے اِس سے بڑی سعادت اور کیا ہوگی کہ اِس عظیم ترین ٹائم لائن میں ایک ڈیوٹی اُس کی بھی لگی ہوئی ہے۔ یعنی محرم اور بالخصوص محرم کے پہلے دس دنوں میں اور پھر اربعینِ حسینیؑ  پر اپنی تمام تر قوت کے ساتھ عزاداریِ امام حسینؑ کرنا، گریہ و ماتم کرنا۔
کربلا کی اِس عظیم ٹائم لائن میں ہمارے لئے سب سے اہم امام حسینؑ، ائمہؑ اور سیدہ سلام اللہ علیھا کا وہ حکم ہے جو انہوں نے ہمیں دیا۔مگر افسوس کہ بعض لوگوں کے نزدیک اس حکم کی حیثیت ثانوی یا غیر اہم ہے لیکن اُن کے اُن نظریات کی زیادہ ہے جس کی بنیاد یا کوئی مخصوص سیاسی نظام ہے یا اُن کی وہ ذاتی فہم جس انہیں یہ باور کرواتی ہے کہ کربلا کے ظلمِ عظیم کے خلاف صدیوں پر محیط اس احتجاج کی حیثیت بس ایک رسم سے زیادہ نہیں  جب تک ہم اُن کے مطابق اُس ظالم کے خلاف احتجاج نہ کریں جوآج کا ظالم ہے اور کل کا اتحادی۔

آپ سال بھر اپنی فہم اور اپنے سیاسی نظریات کی بنیاد پر جس بھی بیانیے کی ترویج کریں، بے شک ہر ظلم کے خلاف آواز اُٹھائیں لیکن جب بات محرم کی اور کربلا کی ٹائم لائن کی ہوگی تو ہمیں اپنا سرِ تسلیم خم کرنا ہوگا اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے۔ وہ ڈیوٹی پوری کرنے کیلئے جو ہم صدیوں سے پوری کرتے آئے۔ وہ ٰڈیوٹی کس قدر عظیم ہوگی جو حسرتِ سیدہ سلام اللہ علیھا کی حسرت اور امام حسینؑ کی وصیت پوری کرنے کیلئے انجام دی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے