شہادتِ سیدہ سلام اللہ علیھا اور مولائے کائناتؑ کا صبر
فدک کا معاملہ ہو تو اُمت کا دھڑا بلکہ ایک بہت بڑا دھڑا بجائے حق سیدہ سلام اللہ علیھا کے ساتھ کھڑے ہونے کے یہ سوال پوچھنے کھڑا ہوجاتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دختر رسولؐ ایک باغ کیلئے دربار چلی جائیں۔ اگلا سوال پوچھا جاتا ہے کہ اگر فدک واقعی سیدہ سلام اللہ علیھا کا حق تھا تو مولا علی علیہ السلام نے اپنی ظاہری خلافت کے وقت یہ واپس کیوں نہ لے لیا؟ ویسے تو یہ باغ کا لفظ بھی اسے دھڑے کا ایجاد کردہ ہے تاکہ بوقتِ ضرورت ” کیا دخترِ رسولؐ فقط ایک باغ کیلئے دربار گئیں تھیں؟” جیسے جملے بول کر یہ تاثر دے سکیں کہ فدک ایک باغ ہی تو تھا۔ بقول مرحوم مرزا محمد اطہر اعلی اللہ مقامہ،فدک کوئی باغ نہیں بلکہ ایک علاقہ تھا۔ یہ باغ کا لفظ بھی کسی باغی کا بنایا ہوا ہے۔ تاکہ پراپرٹی کی ویلیو کم ظاہر کر سکے ۔
بہرحال صدیاں گزر گئیں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے لیکن اُمت کے اس دھڑے کی تشفی نہ ہو سکی۔ اس دھڑے کیلئے فدک کل بھی فقط ایک “باغ” تھا اور آج بھی فقط ایک “باغ” ہے جبکہ ہمارے لیے یہ قیامت تک کیلئے حق اور باطل کا وہ معیار ہے جس کا انتظام مقام عصمت و صداقت و طھارت کے بلند ترین مرتبے پر فائز سیدہ سلام اللہ علیھا نے کیا۔ اب قیامت تک کیلئے دو ہی راستے باقی رہیں گے۔ یا تو آپ کے نزدیک سیدہ سلام اللہ علیھا حق ہیں (بے شک ہیں اور ہمیشہ سے ہیں) جبکہ دوسرے راستے کا میں ذکر بھی نہیں کرنا چاہتا۔
۔
فدک کی طرح دوسرا معاملہ مصائب و شہادت سیدہ سلام اللہ کا ہے۔ یہاں بھی اُمت کا ایک دھڑا بلکہ بہت بڑا دھڑا صدیوں سے یہی سوال پوچھتا آیا ہےکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دختر رسولؐ پر اتنا ظلم ہوتا رہا اور علی مرتضی علیہ السلام جیسا جری خاموش رہا؟ اس سوال کا جواب بھی صدیوں سے بار بار دیا جاتا رہا لیکن سوال کرنے والا دھڑا نہ کل مانا اور نہ آج مانتا ہے۔ میں نے سوشل میڈیا کے توسط سے اس دھڑے کی نفسیات کا بہت غور سے مشاہدہ کیا ہے اور آپ کو مکمل یقین کے ساتھ یہ بتا سکتا ہوں کہ جس وقت بیت سیدہ سلام اللہ علیھا پر حملہ ہوا تھا اور بلوائیوں نے امام علی علیہ السلام کو پابند رسن کرکے گھسیٹتے ہوئے گھر سے نکالنے کی جسارت کی تھی، اگر اس وقت شیر خدا فاتح خیبر و خندق نے ذوالفقار نیام سے نکال کر حملہ کرنے والوں کو ایک ہی وار میں قتل کر دیا ہوتا تو آج اُمت کا یہی بہت بڑا دھڑا مولائے کائنات علیہ السلام کے خلاف مقدمہ قائم کیے کھڑا نظر آتا کہ نعوذ باللہ علی مرتضی علیہ السلام نے اقتدار کی خاطر “اصحاب” کو قتل کر دیا۔ کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ ایک باغی گروہ کے بارے میں واضح ترین فرمان نبویؐ موجود ہونے کے باوجود امت کا یہ دھڑا خطائے اجتہادی سے لیکر فضیلت سازی تک، کیسی کیسی تاویل گھڑتا نظر نہیں آتا؟
البتہ یہاں یہ وضاحت ضرور کرتا چلوں کہ ہم شیعہ “اُمت” کے اس دھڑے کے اس سوال کو بھی اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور علی الاعلان یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے مطابق علیؑ شیرِ خدا خاموش نہیں تھے ۔ ہمارا یہ موقف ہے ہی نہیں کہ نعوذ باللہ یہ سب ہوتا رہا اور مولا علیؑ نے کچھ نہ کیا۔ مسئلہ ہے کہ جب ہم تفصیل بتاتے ہیں کہ اُس دن کیا کیا مصیبت ڈھائی گئی ، کس نے کیا کیا اور مولا علیؑ نے کیا کیا تو اُمت کے اسی دھڑے کو گستاخی کے فتوے یاد آجاتے ہیں۔یا تو سوال پوچھو نہیں اور پوچھا ہے تو جواب سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرو۔ بہرحال اتمام حجت کیلئے اشارتا عرض کرتا ہوں کہ ہماری کتبِ روایات و احادیث کے مطابق وہ لوگ گھر کے باہر جمع ہوئے، دروازہ جلانے کی دھمکی دی، دروازے کو آگ لگائی اور گھر میں داخل ہوگئے۔ اس واقعے کے نتیجے میں جب بی بی سلام اللہ علیھا زخمی ہوئیں تو مولا علیؑ نے ایک شخص کو اُس کے گریبان سے پکڑا اور زمین پر گرا دیا اور ایک لمحہ تھا جب اُسے قتل کا ارادہ کر لیا لیکن پھر رسولؐ اللہ کے عہد اور حکم کو یاد کرتے ہوئے اُس شخص کو چھوڑ دیا ۔ یعنی امام علیؑ کو رسولؐ اللہ کی وصیت یاد آئی جس کی وجہ سے اُس شخص کو قتل کرنے سے گریز کیا۔لہذا اُمت کے دھڑے کا یہ سوال غلط ہے کہ امام علیؑ نے کچھ کیوں نہ کیا نعوذ باللہ، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ امام علیؑ نے اُن سب لوگوں کو قتل کیوں نہ کردیا۔ اس کامختصر جواب یہ ہے کہ رسولؐ اللہ کی وصیت کی وجہ سے اور تفصیلی جواب یہ ہے کہ اگر امام علیؑ اس وقت تلوار اٹھا کر جنگ شروع کر دیتے تو وہ نوزائیدہ اسلامی معاشرہ خانہ جنگی کا شکار ہوجاتا۔ نہج البلاغہ میں امام علیؑ نے اسی صورتحال کو خود یوں بیان کیا ہے “یعنی میں نے دیکھا کہ صبر کرنا زیادہ مناسب ہےتو صبر کیا حالنکہ (میری) آنکھ میں کانٹا اور گلے میں ہڈی محسوس ہوتی تھی۔امام علیؑ نے مزید یہ بھی ارشاد فرمایا کہ “میں نے سوچا کہ آیا میں کمزور ہاتھ اور بغیر کسی مددگار و ناصر کے حملہ کروں یا اس تاریکی پر صبر کروں اور میں نے صبر کرنا مناسب سمجھا۔ یعنی امامؑ کے پاس فقط چند گنے چنے وفادار ساتھی تھے، نہ کوئی ناصر تھا نہ مددگار۔ امام علیؑ کی تنہائی کا عالم خود مولاؑ نے ان الفاظ میں بھی بیان کیا کہ میرے اہل بیتؑ کے سوا میرا کوئی مددگار نہیں اور میں نے یہی مناسب سمجھا کہ اُنہیں موت کے حوالے نہ کروں۔
لہذا اُمت کا دھڑا جو سوال اٹھاتا ہے کہ علیؑ تو شیر خدا ہیں، جری ہیں انہوں نے تلوار کیوں نہ اٹھائی انہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ شجاعت اور حکمت دو الگ چیزیں ہیں۔بدر واُحد اور خیبر و خندق میں تلوار اٹھانا اور بات ہے اور رسول ؐ اللہ کی شہادت کے فورا بعد مسلمانوں کے اندرونی تصام میں تلوار اٹھانا الگ بات۔ بالخصوص اس وقت جب اکثریت آپؑ کے خلاف تھی اور سب سے اہم وصیت و عہدِ رسولؐ اللہ آپؑ کے سامنے تھا۔
یہاں ایک بات اور واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ بات تو خود اہل سنت کی بھی متعدد کتب احادیث و تاریخ میں نقل ہوئی ہے کہ ایک شخصیت نے قسم کھا کر دھمکی دی تھی کہ اگر دروازہ نہ کھولا گیا تو دروازے کو آگ لگا دی جائے گی۔ یعنی شیعہ آ پ کو بس یہی بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کی کتب میں قسم کھا کر جس عمل کو انجام دینے کی دھمکی دی گئی تھی، وہ واقعی انجام دیا گیا۔ ویسے انسان کا ضمیر مردہ نہ ہو تو اس کیلئے فقط اتنا سن کر ہی ندامت سے بارگاہ سیدہؑ میں سر جھکا لینا کافی ہے کہ جس دروازےپر روز رسولؐ اللہ نماز کیلئے جاتے ہوئے سلام بھیجا کرتے تھے، اُس دروازے پر قسم کھا کر اسے جلانے کی دھمکی دی گئی۔ مگر افسوس اکثریت کا ضمیر مردہ ہے۔
۔
فدک کی طرح یہاں بھی راستے دو ہی ہیں۔ یا تو آپ مصائب سیدہ سلام اللہ علیھا پر کامل یقین رکھتے ہیں اور یا مکمل طور پر یا جزوی طور پر ان کا انکار کرتے ہیں۔ جو مکمل یا جزوی انکار کرکے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب ظلم مولا علی علیہ السلام کے سامنے ہوا اور وہ خاموش رہے؟ لہذا یہ ظلم ہوا ہی نہیں۔ جبکہ جو مصائب سیدہ سلام اللہ علیھا پر کامل یقین رکھتے ہیں، وہ بس اتنا بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کے نزدیک مولا علی علیہ السلام کی خاموشی ان مصائب سے انکار کی دلیل ہے جبکہ ہمارے نزدیک یہ خاموشی بذات خود انہی مصائب کا ایک حصہ ہے۔ اِس خاموشی یا صبر کو وہی سمجھ سکتا ہے جو اس حقیقت سے آگاہ ہو کہ مولا علی علیہ السلام کیلئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم اور آپؐ کی وصیت حرفِ آخر ہے۔ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت کردی کہ علیؑ میرے بعد صبر کرنا تو مولا علی علیہ السلام کیلئے یہ وصیت وحی الہی تھی کیوں کہ رسولؐ خدا کا ہر کلام وحی الہی کے تابع ہے۔ اب مولا علی علیہ السلام کی خاموشی اور صبر کو اُمت کا وہ دھڑا بھلا کیسے سمجھ سکتا ہے جس کے نزدیک رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے سے قبل کاغذ و قلم مانگنا اور اس کے جواب میں شور و غل بپا کرکے کاغذ و قلم کے بجائے “حسبنا القرآن” کا نعرہ لگا دینا کسی شخصیت کی “فضیلت” ہے۔ جنہیں قول رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں شور و غل بھی قبول ہو، اُن کا یہی مقدر ہے کہ انہیں علی مرتضی علیہ السلام کی خاموشی کبھی سمجھ نہ آسکے۔
۔
آخر میں ایک بات اور عرض کر دوں۔ اُمت کیلئے شہادت و مصائب سیدہ سلام اللہ علیھا فقط تاریخ ہوگی جس کا وہ انکار کرکے بری الذمہ ہوجائے۔ ہم شیعوں کیلئے ان مصائب پر کامل یقین رکھنا ہمارےعقیدے کا معاملہ ہے۔ ہمارے ہاں تو وہ فقیہ فقیہ ہی نہیں بلکہ ضال و مضل ہے جو خود کو شیعہ اثناء عشری بھی کہے اور مصائب سیدہ سلام اللہ علیھا کے کسی ایک بھی پہلو کا انکار کرے یا اُس پر شک کرے۔ کیوں مکتب اہل بیتؑ میں سیدہ سلام اللہ علیھا کی فضیلت فقط یہ نہیں وہ دخترِ رسولؐ ہیں بلکہ مکتب اہل بیتؑ کے مطابق سیدہ سلام اللہ علیھا منصب عصمت و طہارت اور ہدایت پر فائز ایک ہادیہ ہیں۔ بقول علامہ طالب جوہریؑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنی بیٹی کا کھڑے ہوکر استقبال کرنا ایک باپ کا بیٹی کیلئے احترام نہیں بلکہ ایک ہادی کا دوسرے ہادی کیلئے احترام تھا۔
بی بی سلام اللہ علیھا کے مصائب میں یہ اہم واقعات شامل ہیں۔
درِ سیدہ سلام علیھا پر لوگوں کا جمع ہونا اور شور و غل کرنا۔ دروازے کو آگ لگانا اور گھر میں داخل ہونا۔ سیدہ سلام اللہ علیھا پر دروازے گرنا اور آپؑ کے پہلو کا زخمی ہوجانا۔ ان مصائب کے نتیجے میں حضرت محسن ابن علیؑ کی شہادت۔ بی بی سلام اللہ علیھا کا اپنے حق یعنی جاگیر فدک کا مطالبہ لیکر دربار میں جانا اور اُن کا حق غصب کیا جانا۔ بی بی سلام اللہ علیھا کا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شہادت کے فقط چھ ماہ کے اندر دنیا سے رخصت ہوجانا۔
مصائبِ سیدہؑ پر یقین عقیدے کا معاملہ ہے۔ از نور درویش
