متفرق موضوعات

شہادتِ جنابِ حمزہؑ ابن عبدالمطلبؑ

۱۵ شوال، رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا جناب حمزہ ابن عبدالمطلب علیہ السلام کا یوم شہادت ہے۔ جنگ احد میں آپ کی دردناک شہادت کے احوال سے کون واقف نہ ہوگا۔ بعد از شہادت آپ کے جسم مطھر کو پامال کیا گیا، اُس کا مثلہ کیا گیا اور آپ کا کلیجہ جسم سے نکال کر چبایا گیا۔ جناب حمزہ علیہ السلام کو سید الشہداء کے لقب سے یاد کیا گیا۔ میدان کربلا میں خانوادہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اجسام مطھرہ پر گھوڑے دوڑانے والے کون تھے اور میدان احد میں جناب حمزہ علیہ السلام کے جسم کو پامال کرنے والے کون۔ یہ سوال ہر باضمیر مسلمان کو خود سے ضرور پوچھتے رہنا چایئے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اپنے چچا حمزہ علیہ السلام کے جسم کی حالت دیکھی تھی تو بلند آواز سے گریہ فرمایا تھا اور پھر ایک مرتبہ انصار کے اہل خانہ کو دیکھا تھا جو اپنے شہداء کے لئے گریہ و بکاء کررہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر سرکار ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا:

“لیکن حمزہ کا کوئی رونے والا نہیں ہے۔”

سعد بن معاذ نے آپؐ کی بات سن لی تھی اور انصاری خواتین کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر کے دروازے پر لائے تھے اور وہاں اُنھوں نے جناب حمزہ علیہ السلام کے لئے گریہ کیا تھا۔ اُس دن کے بعد جب بھی کوئی انصاری خاتون اپنے کسی مرحوم کے لئے رونا چاہتی تو پہلے جناب حمزہ علیہ السلام کے لئے گریہ و بکاء کرتی تھی۔ مروی ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے جناب حمزہ علیہ السلام کے سوگ میں تین دن تک لباس عزا پہنے رکھا۔

غم اہل بیت علیھم السلام میں صدیوں سے گریہ و زاری کرنے والوں پر “شہید پر رویا نہیں جاتا” جیسے فتووں اور طعنوں کے تیر برسانے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ سید الشہداء جناب امیر حمزہ علیہ السلام پر کوئی رونے والا نہ تھا، یہ دیکھ کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین ہوگئے تھے۔ لہذا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ملال کو صحابی رسول سعد بن معاذ نے دور کیا تھا اور انصاری خواتین کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در مبارک پر لیکر آئے تھے تاکہ وہ جناب امیر حمزہ علیہ السلام پر گریہ کریں۔ یعنی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیاروں کے غم میں کوئی روئے، یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش ہے اور اس خواہش کو پورا کرنا صحابی رسول کی سیرت۔
۔
۱۵ شعبان المعظم کو اکثر شیعہ گھرانوں میں جب نذر کا اہتمام کیا جاتا ہے ایک نذر شہدائے احد اور ایک خصوصیت کے ساتھ جناب حمزہ علیہ السلام کے نام سے دلائی جاتی ہے۔ ہم بتانا یہ چاہتے ہیں کہ جس بھی غم میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مغموم ہوئے، ہم اس غم کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔ چاہے عام الحزن ہو، میدان احد ہو، واقعہ کربلا کا غم ہو یا خانوادہ رسالت ص پر ڈھائے جانے والے مظالم کا غم۔

اسد رسول اللہ جناب حمزہ ابن عبدالمطلب پر ہمارا سلام۔ آپ ؑ کے یوم شہادت پر بارگاہ ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آل محمد علیھم السلام میں پرسہ و تعزیت۔

Grave of Hamza (RA) and Martyrs of Uhud

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے