کیا کوفہ بیوفا تھا؟
شامیوں کے جرائم کی پردہ پوشی کیلئے بہت سے پراپگنڈوں میں سے سب سے منظم ہراپگنڈہ کوفہ اور اہلیان کوفہ کے مجموعی تشخص کو مسخ کرنے کا پراپگنڈہ تھا۔ یہ پراپگنڈہ اس قدر منظم تھا آج بھی مسلمانوں کی اکثریت کوفہ کو بیوفائی کا استعارہ قرار دیکر کو خود کو اطمینان دلا لیتی ہے کہ جو کچھ ہوا کوفیوں کی وجہ سے ہوا باقی امت کا کیا قصور۔ وہ الگ بات ہے کہ جس گروہ نے کربلا میں خانوادہ رسالت ص پر ظلم کیا، یہی گروہ کچھ سال بعد مدینہ بھی جا پہنچا اور جو ظلم اس گروہ نے یہاں ڈھایا تاریخ نے اسے واقعہ حرہ کے نام سے محفوظ کر لیا۔ لیکن مجال ہے کہ کوفہ اور اہلیان کوفہ کے خلاف پراپگنڈہ میں مصروف گروہ نے آج تک اس شدت سے ان شامی جرائم پر زبان کھولی ہو، ہاں اس کے دفاع میں دنیا جہاں کہ تاویلیں گھڑنے والے آپ کو بے شمار مل جائیں گے۔
۔
کوفہ کے بارے میں یہ مخصوص پراپگنڈہ کرتے ہوئے تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ جیسے کوفہ ایک ایسا شہر تھا شیعان امیر المومنین علیہ السلام کی اکثریت تھی گویا پورا کوفہ شہر ایک شیعہ شہر تھا۔ جبکہ تاریخ میں کہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ خدا کا شکر ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا جس نے بہت سے غلط فہمیوں کا ازالہ کیا اور بہت حد تک صدیوں پر محیط اس پراپگنڈہ کا جواب دیا جس نے خود بہت سے شیعوں کو بھی غلط فہمی میں مبتلا رکھا۔ مولانا ارتضی عباس نقوی کی کتاب “تاریخِ کوفہ” اور حال ہی میں جناب علی اکبر ناطق کے قلم سے تخلیق شدہ شاہکار ناول “کوفہ کے مسافر” نے ایسی بہت سے غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس سے قبل جناب عامر حسینی کی مختصر مگر اہم تصنیف “کوفہ” نے بھی بہت سے اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ واضح رہے کہ عامر حسینی صاحب کا تعلق بذات خود اہل سنت مکتب فکر سے ہے۔
۔
کوفہ شہر کی بنیاد ۱۷ ہجری میں خلیفہ دوئم نے رکھی پھر خلیفہ سوئم کی بھی اپنے دور خلافت میں کوفہ پر حکومت جاری رہی۔ امام علی علیہ السلام نے اپنی ظاہری خلافت میں کوفہ کو اپنا دارالخلافہ قرار دیا۔ کیا تاریخ میں کہیں ملتا ہے کہ اہلیانِ کوفہ کی اکثریت نے خلیفہ دوئم اور سوئم کے زمانے میں ان کی مخالفت کی ؟ یا تاریخ میں کہیں کوئی ایسا ثبوت ملتا ہے کہ جو ثابت کرے کہ اس شہر کی اکثریت شیعانِ علی علیہ السلام پر مشتمل تھی؟ ہاں تاریخ ہمیں یہ ضرور بتاتی ہے کہ اہل سنت کے سب سے جید فقیہ حضرت ابو حنیفہ کا تعلق کوفہ سے ہی تھا جنہیں امام اعظم بھی کہا جاتا ہے ۔ پراپگنڈہ کرنے والوں کی بے سرو پا باتیں سن کر گمان ہوتا ہے کہ جیسے خلیفہ دوئم اور سوئم کے زمانے میں سارہ کوفہ مکتب خلافت کا ماننے والا تھا لیکن امام علی علیہ السلام کے ظاہری خلافت قبول کرتے ہی اچانک پورا کوفہ شیعہ ہوگیا اور پھر انہی کوفیوں نے امام حسینؑ کو خط لکھ دیئے۔ اندھا تعصب اور اہل بیتؑ اور محبان اہل بیتؑ سے بغض انسان کو ایسی ہی ے سروپا باتیں کرنے پر مائل کر دیتا ہے اور وہ ان باتوں کو کرتے بھی کچھ اس انداز سے ہیں کہ گویا ان سے زیادہ نہ کوئی تاریخ جانتا ہے اور نہ علم رکھتا ہے۔
۔
حقیقت صرف یہ ہے کہ ہر شہر کی طرح کوفہ میں بھی ہر فکر و عقیدے کے لوگ موجود تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے خلیفہ دوئم اور سوئم کے ادوار میں انہیں خلیفہ وقت تسلیم کرتے ہوئے ان کی بیعت کی اور بعد ازاں امام علیؑ کو بھی اپنا خلیفہ وقت مانا۔ یہاں وہ شامی قبائل بھی موجود تھے جنہیں ابن زیاد کے پاپ نے یہاں لاکر آباد کیا تھا اور ان میں اکثریت دشمنان اہل بیتؑ کی تھی۔ اسی کوفہ میں حبیب ابن مظاہر اسدی جیسے اصحاب بھی موجود تھے جن کا خط اُن خطوط میں شامل تھا جو کوفہ سے امام حسینؑ کو لکھے گئے۔ علامہ طالب جوہریؒ نے اپنی مشہور تصنیف حدیثِ کربلا میں جناب حبیب ابن مظاہر، سلیمان بن صرد خزاعی، مسیب بن نجیہ، رفاعہ بن شداد وغیرہ کے خط کے علاوہ چند مزید خطوط کے متن بھی نقل کیے ہی اور متن کی روشنی میں ایک استدلال بھی قائم کیا ہے۔ علامہ طالب جوہریؒ کے مطابق ان خطوط کی تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گئی تھی البتہ تمام خطوط کے ریکارڈ تاریخ میں محفوظ نہیں اور نہ محفوظ رہنا ممکن تھا۔ لیکن جو محفوظ ہیں وہ بہت سے پہلو واضح کر دیتے ہیں۔
علامہ طالب جوہریؒ لکھتے ہیں کہ ” بارہ ہزار سے زائد خطوط کوفہ سے امام حسینؑ کو موصول ہوئے۔ خطوط کی اس غیر معمولی تعداد ایک طرف تو ہمیں یہ بتلاتی ہے کہ اُس عہد کا کوفہ بنو امیہ کے مظالم اور غیر اسلامی حرکتوں سے شدید ترین نالاں اور ناراض تھا اور نہیں اس ظلم کی رات کو سحر کرنے کیلئے امام حسینؑ کے علاوہ کوئی اور نطر نہیں آ رہا تھا۔ ان میں فقط وہ نہیں تھے جو امام حسینؑ کو اپنا امامؑ مانتے تھے بلکہ وہ بھی تھے جو مظالم کے ستائے ہوئے تھے اور امام حسینؑ کو بلا کر اُن کی بیعت کرکے اُنہیں امام اور پیشوا بنانا چاہتے تھے۔ خط لکھنے والوں میں حبیب ابن مظاہر اسدی، مسلم ابن عوسجہ، سلیمان بن صرد خزاعی، رفاعہ بن شداد، مسیب نجیہ، شبث بن ربعی، حجار بن ابحر، یزید بن حارث بن رویم، عروہ بن قیس، عمرو بن حجاج اور محمد بن عمیر شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں سے ہم حبیب ابن مظاہر اور مسلم ابن عوسجہ کو امام حسینؑ کے ساتھ شہید ہونے والوں میں پاتے ہیں۔ جبکہ شبث بن ربعی اور حجار بن ابحر کو قاتلین امام حسینؑ کی فہرست میں دیکھتے ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو امام حسینؑ کو اللہ کی طرف سے معین کردہ امام سمجھتے تھے وہ امامؑ کے ساتھ شہید ہوئے۔ ان میں قیس بن مسہر، عبدالرحمن ارجی اور سعید ابن عبداللہ حنفی کو بھی شامل سمجھنا چاہئے۔ یا جو توابین کے انقلاب میں شہید ہوئے ہوئے جیسے سلیمان بن صرد اور عبداللہ بن وال وغیرہ۔اس کے برخلاف جو امام حسینؑ کو اللہ کو معین کردہ امامؑ نہیں سمجھتے تھے اور اپنی بیعت سے انہیں امام بنایا چاہتے تھے چونکہ انہیں اس کا موقع نہ مل سکا اس لیے انہوں نے اپنا نظریہ تبدیل کیا اور یزید کی سربراہی کو قبول کر لیا اور قتلِ حسینؑ کیلئے جو لشکر ترتیب دیا گیا تھا اُس میں شامل ہوگئے تھے۔ ” ۔
علامہ طالب جوہریؒ نے اسی کتاب میں شہرِ کوفہ کی کیفیت کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ کس طرح جناب مسلمؑ ابن عقیلؑ کی آمد کے بعد شہر کے حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ کس طرح حضرت مسلمؑ ابن عقیلؑ کے وفاداروں کی گرفتاری شروع ہوئی، کیسے لوگوں کو ڈرایا دھمکایا گیا یہاں تک کے بہت سے مردوں کو اُن کی بیویوں یہ کہتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر لے جاتی رہیں کہ کل جب شام کا لشکر حملہ آور ہوگا تو وہ کیسے اس کا مقابلہ کریں گے۔ علامہ طالب جوہریؒ نے جناب مسلمؑ کی اپنے وفادار محمد ابن کثیر کے گھر پناہ کیلئے پہنچنے کا واقعہ بھی نقل کیا ہے۔ جس کی مخبری ابن زیاد لعین کے جاسوسوں نے کردی تھی اور اسے گرفتار کرکے ابن زیاد کے سامنے پیش کر دیا گیا تھا۔ مختصرا یہ کہ شہرِ کوفہ کے دروازے بند کر دیئے گئے تھے، راستوں کی مکمل ناکہ بندی کردی گئی تھی، امام حسینؑ اور سفیرِ امام حسینؑ جناب مسلمؑ کے وفاداروں کی اکثریت کو گرفتار کیا جا چکا تھا اور شہر بھر میں سخت مارشل لاء نافذ کیا جا چکا تھا۔ یہ اُس کوفہ شہر کی تفصیل اور حالت تھی جس کی آڑ لیکر اُن شامی جرائم کی پردہ پوشی کی جاتی ہے جس نے دین محمدیؐ کے سینے پر ایسا زخم لگایا جو قیامت تک نہ بھر سکے گا۔
۔
اس موضوع پر اگر ایمانداری کے ساتھ مزید تحقیق کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ بیوفا نہیں تھا بلکہ شہدائے کربلا میں شہید ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق اسی کوفہ سے تھا۔ یہی نہیں بلکہ اسی شہر سے توابین کی تحریک اٹھی تھی اور یہیں سے قتلِ امام حسینؑ کا انتقام لینے والے مختار ثقفی کا لشکر نکلا تھا۔ میں جب جب کوفہ کی بیوفائی کا رونا رونے والے کس شامی اپالوجسٹ کو دیکھتا ہوں جو کوفیوں کے خطوط کی گردان دہرا رہا ہوتا ہے تو میرے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ لوگ واقعی امام حسینؑ جیسی عظیم شخصیت کے بارے میں یہ عقیدہ اور نظریہ رکھتے ہیں؟ یعنی بابِ مدینہ العلمؑ کا فرزند، سفینہ نجات اور سچوں اور جھوٹوں کا فیصلہ کرنے والی آیتِ مباہلہ کا حصہ حسینؑ ابن علیؑ چند ہزار لوگوں کے خطوں سے نعوذ باللہ دھوکا کھا جائے گا اور ان کی بنیاد پر اپنا وطن چھوڑ کر پورے کنبے سمیت کوفہ کیلئے روانہ ہوجائے گا؟ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو مکتب اہل بیتؑ یعنی شیعانِ حیدر کرارؑ کو دوسروں سے جدا کرتا ہے یعنی ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ ائمہ اہل بیتؑ منصوص من اللہ ہستیاں ہیں، ان کا ہر قدم ارادہ الہی کا مظہر ہے۔ کسی خط کی کیا حیثیت اور اوقات جو حسینؑ ابن علیؑ کے کسی اقدام کا سبب بنے ۔یہ قدم ذبحِ عظیم کے الوہی منصوبے کی جانب پیش قدمی تھی جس کی خبر قران میں بھی موجود ہے اور جس کی خبر رسول کریمؐ نے بھی بار بار دی۔ کاش مسلمانوں نے اپنی ہی صحیح ترین کتابوں کو غور سے پڑھا ہوتا۔ کاش پڑھا ہوتا کہ رسولؐ اللہ اُم المومنین جناب اُم سلمیؑ کو شیشی میں کس سرزمین کی خاک دیکر گئے تھے اور اپنے نواسے کے بارے میں کیا خبر دے کر گئے تھے۔ کاش اپنی کتابوں میں موجود قاتلین امام حسینؑ میں سے چند کے ناموں کو غور سے پڑھا ہوتا اور کاش یہ بھی پڑھا ہوتا کہ امام حسینؑ پر اپنی جانیں قربان کردینے والوں کی اکثریت کا تعلق کہاں سے تھا۔
۔
بحیثیت شیعانِ حیدرِ کرارؑ ہم اُس شہرِ کوفہ کو سلام پیش کرتے ہیں جو حبیب ابن مظاہر اسدی، مسلم ابن عوسجہ اسدی اور ہانی ابن عروہ جیسے محبان و جانثاران اہل بیتؑ کا شہر ہے۔ جس شہر سے اہل سنت کے امام اعظم ابو حنیفہ کا تعلق ہے۔ ہم کوفہ کو بیوفائی کا استعارہ نہیں سمجھتے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ کوفہ کا چہرہ مسخ کرکے کسی اور کا داغدار چہرہ چھپایا گیا۔ ہم یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اگر کوفہ بیوفا تھا تو پھر وفادار کون تھا؟ ہمیں اُس کا نام بتایا جائے۔ پروردگار ہمیں اولیائے کوفہ کے چاہنے والوں میں شمار کرے جنہوں نے اپنے نام شہدائے کربلا کی فہرست میں شامل کرکے خود کو ذبحِ عظیم کے الوہی منصوبے کا حصہ بنا لیا۔
