تعزیت, دعا اور طعنہ زنی از نور درویش
کسی شخصیت کے انتقال پر تعزیت کرنا مثبت معاشرتی رویہ ہوتا ہے اور میرا نہیں خیال اس پر کسی کو اعتراض ہونا چاہئے۔ میرا نہیں خیال رسمی تعزیت کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بات جب رسمی تعزیت سے بڑھ کر خواہ مخواہ میں اُس طرف چلی جائے جہاں معاملہ رسم کے بجائے عقائد و نظریات تک چلا جائے تو اِسے over exeggerration کہا جائے گا اور پھر اس پر ویسا ردعمل بھی آئے گا جو ہمیں دیکھنے کو ملا۔ مطلب ایک شیعہ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ کہ تعزیت کرتے ہوئے اُن ہستیوں کے واسطے سے دعائیں بھی دینا شروع کر دے وفات پانے والا جن ہستیوں کا نہ صرف منکر ہو بلکہ معاملہ اس سے بھی زیادہ نازک ہو۔ یعنی شش امامیوں کا کیا تعلق ائمہ اثنا عشر سے؟ بصد معذرت ہمارے بعض شیعہ خواہ مخواہ میں نان ایشو کو ایشو بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا ہوتا ہے اور آپس میں بحثم بحثی۔ آپ تعزیت کی رسم ادا کر لیں اگر بہت ناگزیر ہے یا خاموش رہ لیں۔ یہ اتنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔
۔
جب بحث شروع ہوتی ہے تو اس میں مزید پہلو شامل ہوتے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلے نمبر آتا ہے ہمارے بیدار اذہان کے پسندیدہ موضوع کا یعنی ربط بنے یا نہ بنے، ہر بات میں سے خود یعنی اپنے شیعوں پر طعنہ زنی اور غیر متوازن موازنے کرنے کا موضوع۔ آپ خود سوچیں کہ ایک فرقہ ہے جس کی پوری دنیا میں تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ نہیں اور آپ اُس کا موازنہ کر رہے ہیں اُس فرقے سے جس کی صرف پاکستان میں تعداد آغا خانی حضرات کی پوری دنیا کی آبادی سے پانچ چھ گناہ زیادہ ہے۔ کیا اِن دونوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز یکساں ہیں؟ اِن دونوں میں سے کس کے عقائد و نظریات ہیں جن کی وجہ سے اُنہیں ہر دور میں سخت ردعمل کا سامنا رہا ہے؟ گزشتہ دو دنوں دوران آپ نے بار بار یہ بات پڑھی ہوگی کہ آغا خانیوں یا اسماعیلیوں کے عقائد کیا ہیں ہمیں علم نہیں لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ بطور کمیونٹی وہ بہت منظم اور اچھے وغیرہ وغیرہ ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر اس فرقے نے اپنے عقائد اور اپنی عبادات وغیرہ کو کافی حد تک کانفیڈنشل رکھا ہوا ہے اور جو پہلو ان کا دنیا کے سامنے عیاں ہے وہ وہی ہے جس کے ذکر آپ دو دن سے پڑھ رہے ہیں۔ شیعہ اثنا عشریہ کے معاملہ بالکل برعکس ہے۔ اثناء عشری مکتب فکر کی اصل اساس ہی اس کا احتجاجی اور مزاحمتی تاثر ہے جو صدیوں سے عزاداری کی صورت جاری ہے۔ آپ آج پاکستان کے شیعوں کو کہہ دیں کہ آپ عزاداری چار دیوراری میں محدود کر لیں اور پھر ردعمل دیکھیں کیوں کہ اثناء عشری کی اساس ہی کا عوامی رنگ ہے، شاہراہوں پر نکل کر آلِ رسولؐ کی عظمت اور ان کی مظلومیت بیان کرنا ہے۔ اور اسی عوامی اور احتجاجی رنگ کی قیمت انہوں نے ہر زمانے میں ادا کی ہے۔ وہ یہی ہے کہ کچھ برس قبل اقوامِ متحدہ نے پوری دنیا میں سب سے زیادہ استحصال اور ظلم کا سامنا کرنے والی قوم اسی شیعہ اثنا عشریہ کو قرار دیا تھا۔ تو کس طرح آپ دو بالکل مختلف گروہوں کو ایک ہی پلڑے میں تول سکتے ہیں جن کے مسائل، جن کی چیلنجز جن کے عقائد، جن کا ہدف بالکل مختلف ہے؟
۔
یہ بات کامن سینس میں شمار نہیں ہوگی کہ ڈیڑھ کروڑ افراد پر محیط ایک کمیونٹی کو منظم کرنا، مضبوط کرنا اور اُن کی فلاح کیلئے کام کرنا کافی آسان ہے بالخصوص جب اُس کمیونٹی کے عقائد کے مطابق اُن کو منظم کرنے کیلئے ایک ایسا شخص بھی اُن کے درمیان موجود ہو جسے یہ اپنا مولا کہتے ہوں؟ جو اُن کے عقائد کے مطابق اُن کے سلسلہ امامت کا پچاسواں یا چھپن واں امام ہو؟ جو اُن کے مطابق Divine سلسلے سے تعلق رکھتا ہو یعنی وہ ان کی کمیونٹی کا منتخب کردہ امام یا خلیفہ نہیں ہو بلکہ منتخب شدہ یا منصوص ہو یا سلسہ وار، نسل در نسل، جسم با جسم یا روح با روح منتقل ہونے والے سلسلے کا نمائیندہ ہو۔ جب کہ اثناء عشری کا امامؑ پردہ غیبت میں ہے، یعنی وہ شخصیت جس کے پرچم کے ننیچے اثنا عشریوں کو منظم ہونا ہے، جس نے پورے کرہ ارض کو عدل و انصاف سے پر کرنا ہے، وہ ابھی اُن کے درمیان بظاہر موجود نہیں۔ اور وہ شخصیات جو اثنا عشریوں کے امامِؑ وقت کی نائب ہونے کی دعویدار ہیں اُن کا سب کا پس منظر مکمل طور پر مذہبی اور حوزوی ہے۔ یعنی ایک طرف آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے، ارب پتی، کلین شیو، شستہ انگریزی بولنے والے امام اور دوسری طرف حوزہ علمیہ نجف الاشرف میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے والے سید سیستانی یا قم میں رہنے والے شیخ وحید خراسانی جنہیں اثنا عشریوں کے اُصولی منہج میں جامع الشرائط مجتہد یا نائب امام کہا جاتا ہے۔ کیا ان دونوں میں کوئی موازنہ کیا جا سکتا ہے؟
۔
میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ پاکستانی شیعوں میں موجود بیدار اذہان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اپنے مسائل کے حل کیلئے تنقید اُس ادارے پر کرتے ہیں جو دراصل ان کی بقا کا ضامن رہا ہے۔ یعنی عزاداری، آہ و بکا، مجالس و جلوس۔ ایسا کرتے ہوئے یہ بہت سگین غلطی کرتے ہیں یا دانستہ اصل فالٹ لائن کی نشاندہی کرنے سے کتراتے ہیں۔ عزاداری، مجلس ماتم، یہ عام شیعہ اپنے امام حسینؑ سے محبت کی قوت کی مدد سے اپنے طور پر انجام دیتے ہیں۔ فرشِ عزا پچھانے کے اخراجات، نیاز، تبرک، ذاکر، نوحہ خوان شعراء وغیرہ کا ہدیہ۔ یہ سب عام شیعہ کرتے ہیں، نسل در نسل فرشِ عزا بچھانے والے بانیان، خانوادے کرتے ہیں۔ اصل سوال ہونا چاہئے اُس مالی پہلو کا جو شیعہ نکالتے ہی اس نیت سے ہیں کہ اسے شیعوں کی فلاح کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ میرا اشارہ خمس کی طرف ہے۔ کیا آپ نے کبھی بیدار اذہان کو یہ بحث کرتے دیکھا کہ اب تک پاکستان میں خمس کی رقم سے کوئی بڑا قابل ذکر ہسپتال کیوں نہ بن سکا؟ بین الاقوامی معیار کا تعلیمی ادارہ کیوں نہ بن سکا؟ کمیونٹی بلڈنگ کیلئے کوئی قابل ذکر کام کیوں نہ ہو سکا؟ نہیں، میں نے ایسی بحث بیدار اذہان کو کرتے نہیں دیکھا۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں خمس پر مخصوص فکر کے مذہبی طبقے کی اجارہ داری ہے اور بصد معذرت یہ پورا کا مورا طبقہ compromised ہے یعنی اپنے فیصلے پاکستان کے شیعوں کے مفادات کے مطابق لینے میں آزاد نہیں ہے۔ اس طبقے کے جتنے گروہ ہیں سب کی وفاداری کسی اور سیاسی نظام سے ہے اس لئے اس طبقے کے حمایتیوں کے پاس اپنی shotcomings سے توجہ ہٹانے کیلئے واحد طریقہ یہی ہوتا ہے کہ شیعوں کی اُس قوت پر تنقید کی جائے جو وہ کسی مالی امداد یا چندے سے نہیں بلکہ اپنی محبت اور امام حسینؑ کی مدد سے جاری رکھتے ہیں۔ لہذا آپ پاکستان میں خمس کے نظام کو ریگولیٹ کریں، اس کا دائرہ کار بڑھائیں اور قیادت کے دعویداروں کو باور کروائیں کہ یہ خمس شیعوں کی بہبود کیلئے استعمال کرنا سیکھیں، نہ کہ اپنے مدرسوں کا نیٹورک بڑھاتے جانے کیلئے، اپنی جائدادیں بڑھانے کیلئے، منبر قبضے میں لینے کیلئے، ٹرسٹ خریدنے کیلئے اور کسی سیاسی نظام کے مفادات کے حصورل کیلئے۔ جب اپنے امامؑ وقت سے وفاداری کرنا سیکھ لیں تب آغا خانیوں کے امام کی خدمات کا ذکر کرکے شیعوں کا شوق سے طعنے دیتے رہیں۔
۔
جہاں تک تعلق پرنس کریم آغا خان کی انسانیت کیلئے خدمات کا ہے تو میرا نہیں خیال اس پر اُن کی تعریف کر دینے سے کوئی آسمان گر پڑے گا۔ معاشرے اور انسانیت کیلئے جو بھی اچھا کام کرے، چاہے وہ ملحد ہی کیوں نہ ہو، ایک مثبت معاشرتی رویہ ہے۔ کیا ڈاکٹر رتھ فاو کی تعریف کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ تعریف کرنے والا مسیحی عقائد کی تعریف کر رہا ہے یا سر گنگا رام کی تعریف کا مطلب اُن کے مذہب کی تعریف شمار ہوگا۔ باقی ایک بات ذہن میں رکھنی چاہئے۔ گزشتہ دنوں بھارت کے ارب پتی بزنس مین رتن ٹاٹا کا انتقال ہوا تھا اور اس کے بعد اُن کی بھی انسانیت دوستی پر کافی کچھ پڑھنے کو مل رہا تھا۔ بل گیٹس کی چیریٹی کے بہت چرچے ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت بہرحال یہی ہے کہ یہ سب ارب پتی بزنس ٹائکون اور سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہیں۔ آپ ان کے اچھے کاموں کو جتنی چاہے تعریفیں کر لیں لیکن ان کی بنیاد اور ان کی وابستگی کو بہرحال نہیں بدل سکیں گے۔
آخر میں بس یہی کہوں گا کہ مانا پاکستان کے شیعہ اثناء عشریہ تقسیم کا شکار ہیں، ان کے بہت سے مسائل ہیں، بطور کمیونٹی یہ مضبوط نہیں ہیں لیکن اس سب کے باوجود مجھے ان کا احتجاجی اور عوامی رنگ بے انتہا پسند ہے اور اس پر ان کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ ظاہر ہے اس کی انہوں نے بھاری قیمت بھی ادا کی۔ سب سے بھاری قیمت تو یہی ہے کہ کتنے ڈاکٹرز، انجینئیرز اور قابل دماغ تھے جنہیں یا تو دنیا چھوڑنے یا ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بہرحال، اطمینان یہ ہے کہ جس امامؑ کے شیعہ منتظر ہیں، وہ صرف ایک کمیونٹی کو نہیں پوری انسانیت کو مضبوط کرے گا، صرف ایک خطے کو نہیں پورے کرہ ارض کو عدل سے پُر کرے گا۔ یہ کام صرف امام مھدیؑ ابن حسن عسکریؑ ہی کر سکتے ہیں، وہ آجائیں تو ہمارے دن بھی بدل جائیں، ہمیں بھی طعنوں اور فتووں سے نجات مل جائے۔